کب تلک اپنی تپش میں آپ جلنا ہے تجھے
دوپہر کی دھوپ تُو، آخر کو ڈھلنا ہے تجھے
سانس چبھتی کرچیوں کا بے نہایت راستہ
اور اس پر زندگی بھر تیز چلنا ہے تجھے
تجھ سے پیماں باندھتا تھا اور یہ سوچا نہ تھا
رنگ مہندی کے ہوں یا تتلی کے، اوروں کے نصیب
ہاتھ کی پھیکی لکیروں سے بہلنا ہے تجھے
رات بھر کی بات ہے خود کو تمازت سے بچا
دن چڑھے پھر برف کی صورت پگھلنا ہے تجھے
خیر و شر میں فیصلے کا وقت ہے ترکش سنبھال
اپنے لشکر سے مثالِ ’حر‘ نکلنا ہے تجھے
ریشمی رشتوں سے محسؔن اتنا بے پرواہ نہ ہو
لغزشوں کی بھیڑ میں آخر سنبھلنا ہے تجھے
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment