تُو کس طرح سے یہ احساں مگر اتارے گا
عطا کرے گا جو دستار، سر اتارے گا
نہ مانگ ایک بھی لمحہ خوشی کا دنیا سے
یہ قرض وہ ہے جسے عمر بھر اتارے گا
یہ عمر بھر کی تھکن ایک دن تو اترے گی
یہ لگ رہا ہے ستاروں کی چال سے کہ فلک
کوئی عذاب مِری خاک پر اتارے گا
چمن کو زہر سے سینچا ہے باغباں نے فرازؔ
اجل گرفتہ ہی کوئی ثمر اتارے گا
احمد فراز
No comments:
Post a Comment