چراغ شامِ وفا میں جلے نہ تھے ایسے
کہ دل زدوں میں کبھی منچلے نہ تھے ایسے
ہجوم ایسا کہ مقتل میں جا نہیں ملتی
یہ جاں نثار سروں سے ٹلے نہ تھے ایسے
جو اہلِ دل تھے وہ جاں سے گزر گئے کہ نہیں
جہاں کی وضع کو دیکھو تو ہم سے پیار کرو
چلو یہ مان لیا ہم بھلے نہ تھے ایسے
فرازؔ اب کےعجب آگ سی وجود میں ہے
کہ دل میں زخم تو تھے آبلے نہ تھے ایسے
احمد فراز
No comments:
Post a Comment