قتل کرتا ہے تو کر، خوف کسی کا کیا ہے
سر یہ موجود ہے، ہر دم کا تقاضا کیا ہے
نزع کے وقت یہ آنکھوں کا اشارا کیا ہے
سامنے میرے دھرا ساغرِ صہبا کیا ہے
اپنا یوں دور سے آ آ کے دکھانا جوبن
چشمِ پُر آب مِری دیکھ کے ہنس کر بولے
یہ تو اک نوح کا طوفان ہے رونا کیا ہے
تیرا پیکاں نہیں ہے تو بتا اے قاتل
سانس کے ساتھ یہ سینہ میں کھٹکتا کیا ہے
کیا بر آئے وہ طلب جو کہ محالات سے ہو
پہلے سمجھو تو سہی خواہشِ موسیٰ کیا ہے
اس کے آشوب سے عاشق ہی کا دل واقف ہے
تم کو معلوم نہیں چشمِ ستم زا کیا ہے
دلِ مضطر کی عبث ہے مِرے سینہ میں تلاش
دیکھیۓ آنکھ جھکا کر یہ تہِ پا کیا ہے
لاکھ ہوں سامنے وہ آنکھ ملاتا ہی نہیں
گلۂیار سنو،۔ شکوۂ اعدا کیا ہے
کر کے غارت دلِ عاشق کو بھلا کیا لے گا
تیری حسرت کے سوا اور وہ رکھتا کیا ہے
خواب میں جلوۂ جاں سوز دکھایا کس نے
پوچھے یوسف سے کوئی جرمِ زلیخا کیا ہے
آنکھ کھل جائے گی برقع کو جلایا جس دم
ابھی سمجھے وہ نہیں آہِ شرر زا کیا ہے
کون رکھتا ہے توقع کہ جئیں گے کل تک
فکر کر آج کی اندیشۂ فردا کیا ہے
کہتے ہیں دل ہی نہ دیتے جو سمجھتے دلبر
واہ اس شوخ کا اندازِ تقاضا کیا ہے
حالتِ نزع ہے، لب بند ہوا چاہتے ہیں
اب تو مجروؔح سے پوچھو کہ تمنا کیا ہے
میر مہدی مجروح
No comments:
Post a Comment