منہ پہ رکھنے لگے نقاب بہت
آج کل بڑھ گیا حجاب بہت
جان بچتی نظر نہیں آتی
آج ہے دل کو اضطراب بہت
ہم بھی امیدِ وصل سے خوش ہیں
دارِ فانی میں کیا ہو خاطر جمع
خود پریشاں ہے یہ خواب بہت
نہ جما رنگ اشک خوں کے حضور
یوں تو برسا کیا سحاب بہت
کیوں نہ گھبرائیں آہِ سوزاں سے
ہے گل رخ پہ آب و تاب بہت
خوار و رسوا، ذلیل و سودائی
مل چکے ہیں ہمیں خطاب بہت
دیکھ سکتا نہیں وہ مصحفِ رخ
اس میں ہیں آیت حجاب بہت
سب بھلایا ہے ضعفِ پیری نے
یاد آتا ہے پر شباب بہت
پہلے ہی ڈر سے ہم تو سہمتے ہیں
یاں ہے تھوڑا ہی سا عتاب بہت
دوست گنتے ہو غیر کو اپنا
ہے غلط آپ کا حساب بہت
جان و دل کو کباب کر ڈالا
گرم ہے آہِ شعلہ تاب بہت
دہشتِ قبر ہے اگر اے دل
وِرد رکھ نامِ بُو تراب بہت
صبح بیہوش تھے پڑے مجروحؔ
پی گئے رات کو شراب بہت
میر مہدی مجروح
No comments:
Post a Comment