Monday, 9 January 2017

آج نکلا جو آفتاب نہیں

آج نکلا جو آفتاب نہیں
اس کے چہرہ پہ کیا نقاب نہیں
لاکھ شرم و حیا کے پردے ہیں
کیا ہوا منہ پہ گر نقاب نہیں
اس کے لینے میں اضطراب نہیں
آبِ حیواں ہے یہ شراب نہیں
اس کی زلفیں بنا رہے ہیں غیر
دل کو بے وجہ پیچ و تاب نہیں
ڈوبی اس بحر میں مِری کشتی
موج کو جس میں اضطراب نہیں
دل کی گھبراہٹیں معاذاللہ
وہ بھی آئے تو اس کو تاب نہیں
کس سے سرگرمیاں رہیں صاحب
آج کیوں منہ پہ آب و تاب نہیں
شوخی آنکھوں سے ٹپکی پڑتی ہے
گو وہ ظاہر میں بے حجاب نہیں
کیا تِرے لطف سے تلافی ہو
میری حسرت کا کچھ حساب نہیں
ہنس کے بولے سوال بوسے پر
ایسی باتوں کا یاں جواب نہیں
بوسہ غیروں کو کیوں نہ دیجے گا
یہ مِری بات کا جواب نہیں
کس کو کہتے ہیں نیند بھر سونا
خواب میں بھی یہاں تو خواب نہیں
کیا ہے ایسا جو چپکے بیٹھے ہو
آج مجھ پر بھی کچھ عتاب نہیں
پوچھیۓ مت مِرا فسانۂ غم
اس کے سننے کی تم کو تاب نہیں
بختِ اغیار بن گئی ہے چشم
دیکھنے کو بھی جس میں خواب نہیں
اپنی ہی بے محل شکایت ہے
میرے شکوؤں کا کچھ جواب نہیں
وہ نگاہیں پھریں تو آفت ہے
یہ زمانے کا انقلاب نہیں
اپنے دل ہی میں دیکھ جو کچھ دیکھ
اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں
کیونکہ مجروؔح چین آئے گا
اب تو بے تابیوں کی تاب نہیں

میر مہدی مجروح

No comments:

Post a Comment