Tuesday, 10 January 2017

نیند بیچی جا رہی ہے کاروبار خواب ہے

نیند بیچی جا رہی ہے کاروبار خواب ہے
پھر بھی آشفتہ سروں کو اعتبارِ خواب ہے
ان دنوں آنکھوں کی تقدیریں ہیں کس کے ہاتھ میں
کون آخر ان دنوں پروردگارِ خواب ہے
نقشِ پا ہے زندگی کا اور اس پر آبلے
جوئے بار تشنگی ہے ریگزارِ خواب ہے
ایک منظر بھی نہیں ہے میرے چھونے کیلئے
یہ جہاں کوئی خلائے شرمسارِ خواب ہے
سارے کرداروں کے چہرے زرد لہجے سرد ہیں
یہ کہانی کیا پڑھو گے داغ دارِ خواب ہے
آسماں کو دیکھتا ہوں چار جانب دیکھ کر
اور کتنے دن فضائے انتشارِ خواب ہے
رفتگاں میں اور ہم میں مشترک ہے ایک بات
انتظارِ خواب تھا اور انتظارِ خواب ہے

دانيال طرير

No comments:

Post a Comment