چاند ہو بھی تو سمندر نہیں ہونے والا
فریم اس رات کا منظر نہیں ہونے والا
دیکھ لی خاک دھنک چاک فلک دیکھ لیا
میں کسی بات پہ ششدر نہیں ہونے والا
تیس دن تک اسی دیوار پہ لرزے گا یہ عکس
رسیاں کھینچ لو آفاق کی چاہے جتنی
آسماں سر کے برابر نہیں ہونے والا
پیاس کی فصل اگی رہتی ہے ہر وقت یہاں
دشت بھی کھیت ہے بنجر نہیں ہونے والا
ایک قطرہ جو ہتھیلی پہ ہوا لائی ہے
سیپ میں پڑنے سے گوہر نہیں ہونے والا
نیند کے سبز سمندر! ترے ساحل پہ مجھے
خیمۂ خواب میسر نہیں ہونے والا
جو بدن آگ اگلتا ہو مساموں سے طریرؔ
برف میں رکھنے سے پتھر نہیں ہونے والا
دانيال طرير
No comments:
Post a Comment