کسی سے ایسی رتوں میں جدا نہیں ہوتے
کہ برف پِگھلے تو پھر نقشِ پا نہیں ہوتے
قفس میں عدل کی کوئی بھی شِق نہیں ہوتی
ضمانتوں پہ پرندے رِہا نہیں ہوتے
میں ایک عمر سے چپ چاپ سوچتا ہوں اسے
صنم تراشنے والے خدا بناتے ہیں
صنم تراشنے والے خدا نہیں ہوتے
دکھائی دیتے ہیں ہم جا بہ جا نسیمؔ یہاں
ہم ایسے لوگ مگر جا بہ جا نہیں ہوتے
نسیم عباسی
No comments:
Post a Comment