فائز میں اس مقام پہ یوں ہی نہیں ہوا
دنیا کو دیکھ بھال کے گوشہ نشیں ہوا
تجھ سے بچھڑ کے صورتِ احوال اور تھی
میں ٹھیک ٹھاک بعد میں جا کر کہیں ہوا
دراصل اپنا بویا ہوا کاٹتے ہیں لوگ
اس کو عدالتوں کے سوا جانتے ہیں سب
مجرم کا جرم آج بھی ثابت نہیں ہوا
یہ دلکشی، بصورت دیگر نہیں نسیمؔ
رعنائِیِ خیال سے منظر حسیں ہوا
نسیم عباسی
No comments:
Post a Comment