آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
گاہ جلتی ہوئی، گاہ بجھتی ہوئی
شمعِ غم جھلملاتی رہی رات بھر
کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن
پھر صبا سایۂ شاخِ گل کے تلے
کوئی قِصہ سناتی رہی رات بھر
جو نہ آیا اسے کوئی زنجیرِ در
ہر صدا پر بلاتی رہی رات بھر
ایک امید سے دل بہلتا رہا
اک تمنا ستاتی رہی رات بھر
فیض احمد فیض ماسکو، ستمبر 1978ء
No comments:
Post a Comment