Thursday, 13 August 2020

شگفت گل کی صدا میں رنگ چمن میں آؤ

 شگفتِ گل کی صدا میں رنگِ چمن میں آؤ

کوئی بھی رُت ہو بہار کے پیرہن میں آؤ

کوئی سفر ہو تمہی کو منزل سمجھ کے جاؤں

کوئی مسافت ہو، تم مِری ہی لگن میں آؤ

کبھی تو ایسا بھی ہو کہ لوگوں کی بات سن کر

مِری طرف تم رقابتوں کی جلن میں آؤ

وہ جس غرور اور ناز سے تم چلے گئے تھے

کبھی اسی تمکنت، اسی بانکپن میں آؤ

یہ کیوں ہمیشہ مِری طلب ہی تمہیں صدا دے

کبھی تو خود بھی سپردگی کی تھکن میں آؤ

ہزار مفلس سہی مگر ہیں سخی بلا کے

کبھی تو تم اہلِ درد کی انجمن میں آؤ

ہم اہلِ دل ہیں ہماری اقلیم حرف کی ہے

کبھی تو جانِ سخن، دیار سخن میں آؤ

کبھی کبھی دوریوں سے کوئی پکارتا ہے

فراز جانی، فراز پیارے وطن میں آؤ


احمد فراز

No comments:

Post a Comment