Friday, 14 August 2020

آئین جفا ان کا سمجھے تھے نہ ہم پہلے

آئینِ جفا ان کا سمجھے تھے نہ ہم پہلے
ہوتا ہے ستم پیچھے کرتے ہیں کرم پہلے
کیوں سیرِ گلستاں پر ہے چیں بجبیں کوئی
زنداں میں بھی رکھا تھا میں نے ہی قدم پہلے
آباد رہیں دونوں، بت خانہ بھی کعبہ بھی
یہ بات نہ تھی تم میں اے شیخِ حرم پہلے
ہوتی نہ اگر کلفت، کیا لطف تھا راحت میں
رہتی ہے مسرت بھی منت کشِ غم پہلے
کوشاں ہیں نکلنے کو یوں جاں بھی تمنا بھی
وہ کہتی ہے ہم پہلے یہ کہتی ہے ہم پہلے
ہے نورِ حقیقت کا جویا تو مگر زاہد
اس راہ میں ملتے ہیں انوارِ صنم پہلے
برہم انہیں کرنے کی مجرم مِری آنکھیں ہیں
کچھ کہہ نہ سکا ان سے، یہ ہو گئیں نم پہلے
بخشا ہے محبت نے کچھ رنگِ اثر شاید
تھا تم میں کہاں اختر یہ زورِ قلم پہلے

اختر مسلمی

No comments:

Post a Comment