نہ کوئی ان کے سوا اور جان جاں دیکھا
وہی وہی نظر آئے گا، جہاں جہاں دیکھا
بہشت میں بھی اسی حور کو رواں دیکھا
یہاں جو دیکھ چکے تھے وہی وہاں دیکھا
گئے جہان سے جو لوگ دو جہاں سے گئے
جلایا بزم میں ہر روز شمع 🕯 کے مانند
ہزاروں باتیں سنائیں جو بے زباں دیکھا
قیامت آئی، یہ تڑپا فراق میں اے برق
نہ پھر زمین کو پایا،۔ نہ آسماں دیکھا
مرزا رضا برق
No comments:
Post a Comment