Friday, 14 August 2020

نہ کوئی ان کے سوا اور جان جاں دیکھا

نہ کوئی ان کے سوا اور جان جاں دیکھا
وہی وہی نظر آئے گا، جہاں جہاں دیکھا 
بہشت میں بھی اسی حور کو رواں دیکھا 
یہاں جو دیکھ چکے تھے وہی وہاں دیکھا 
گئے جہان سے جو لوگ دو جہاں سے گئے 
کسی نے پھر نہ کبھی اپنا کارواں دیکھا 
جلایا بزم میں ہر روز شمع 🕯 کے مانند 
ہزاروں باتیں سنائیں جو بے زباں دیکھا 
قیامت آئی، یہ تڑپا فراق میں اے برق
نہ پھر زمین کو پایا،۔ نہ آسماں دیکھا 

مرزا رضا برق

No comments:

Post a Comment