حوادث
تاخیر نہیں ہوتی تعجیل نہیں ہوتی
تقدیر دعاؤں سے تبدیل نہیں ہوتی
مٹتی ہے ابھرتی ہے، بنتی ہے بگڑتی ہے
تخیّل کی دنیا کی تشکیل نہیں ہوتی
وہ بات ہی کیا جس کا حاصل ہی نہ ہو کوئی
دستورِ ہوس جب تک آساں نظر آتا ہے
آئینِ محبت کی تشکیل نہیں ہوتی
ملتی ہیں حوادث میں کچھ مصلحتیں، لیکن
ایسے بھی تو ہیں جن کی تاویل نہیں ہوتی
عریاں نظر آتی ہے انسان کی مجبوری
جب پختہ ارادوں کی تکمیل نہیں ہوتی
تھمتے ہی نہیں آنسو، رکتی ہی نہیں آہیں
اے غم! تِرے مکتب میں تعطیل نہیں ہوتی
جب تک نہ گزر جائے آتشکدۂ غم سے
انسان کی سیرت کی تکمیل نہیں ہوتی
اسد ملتانی
No comments:
Post a Comment