Monday, 7 September 2020

ہیچ ہیں دونوں جہاں میری نظر کے سامنے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

ہیچ ہیں دونوں جہاں میری نظر کے سامنے
میں کھڑا ہوں روضۂ خیرالبشرؐ کے سامنے
جھلملانے لگ گئیں روضے کی روشن جالیاں
اک نیا منظر ہے میری چشمِ تر کے سامنے
اڑ گئی میرے گناہوں کی سیاہی اڑ گئی
ظلمتِ شب جس طرح نورِ سحر کے سامنے
مانگتا ہوں جس قدر ملتا ہے کچھ اس سے سوا
ہر دعا شرمندہ رہتی ہے اثر کے سامنے
اک جگہ پر دونوں محوِ استراحت ہی نہیں
گھر بھی ہے صدیق کا حضرتؐ کے گھر کے سامنے
کس نے کار آمد بنایا زندگی اور موت کو
مقصد ایسا رکھ دیا نوعِ بشر کے سامنے
میں اسد صحنِ حرم میں بیٹھتا ہوں اس جگہ
ہو جہاں سے گنبدِ خضرا نظر کے سامنے

اسد ملتانی

No comments:

Post a Comment