عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہیچ ہیں دونوں جہاں میری نظر کے سامنے
میں کھڑا ہوں روضۂ خیرالبشرؐ کے سامنے
جھلملانے لگ گئیں روضے کی روشن جالیاں
اک نیا منظر ہے میری چشمِ تر کے سامنے
اڑ گئی میرے گناہوں کی سیاہی اڑ گئی
مانگتا ہوں جس قدر ملتا ہے کچھ اس سے سوا
ہر دعا شرمندہ رہتی ہے اثر کے سامنے
اک جگہ پر دونوں محوِ استراحت ہی نہیں
گھر بھی ہے صدیق کا حضرتؐ کے گھر کے سامنے
کس نے کار آمد بنایا زندگی اور موت کو
مقصد ایسا رکھ دیا نوعِ بشر کے سامنے
میں اسد صحنِ حرم میں بیٹھتا ہوں اس جگہ
ہو جہاں سے گنبدِ خضرا نظر کے سامنے
اسد ملتانی
No comments:
Post a Comment