Monday, 7 September 2020

ذوق ایثار و عمل کا نہ تجھے ہے مجھے

خطیب سے خطاب

ذوقِ ایثار و عمل کا نہ تجھے ہے مجھے
زیست اس طرح کی زیبا نہ تجھے ہے مجھے
ڈھونڈتے رہتے لذتِ سخن آرائی میں
عملی کام کا چسکا نہ تجھے ہے مجھے
ہے وہ مسحور فقط سن کے ہماری باتیں
قوم نے غور سے دیکھنا نہ تجھے ہے مجھے
میرا چلتا ہے قلم اور تِری چلتی ہے زباں
حوصلہ جنبشِ پا کا، نہ تجھے ہے مجھے
جاں نثاری کی سبق دیتے ہیں سب کو لیکن
اپنی تکلیف گوارا نہ تجھے ہے مجھے
لاکھ اسد ہم کو دکھائے رہِ میدانِ عمل
اپنے کوچے سے نکلنا نہ تجھے ہے مجھے

اسد ملتانی

No comments:

Post a Comment