محبتوں کے نام پر تھے عادتوں میں مُبتلا
میں ہنس پڑا ہوں دیکھ کر تُو دیکھ مجھ کو مُسکرا
وہ پھُول سارے جھُوٹ تھے، وہ چاہتیں مذاق تھیں
یہ سچ ہے یار! تھے کبھی، نہ ہم فدا نہ تم فدا
یہ عادتوں کی بات ہے جو پاس ہے وہ خاص ہے
جو چل دیا تھا چھوڑ کر، چلا گیا، چلا گیا
یہ سوچ کی بلندیاں، ذرا سنبھل سنبھل ذرا
جو اس جگہ سے گِر گیا، نہیں اُٹھا نہیں اُٹھا
عثمان نیاز
No comments:
Post a Comment