وہ کیا ہوتے ہیں پر تم ان کو کیا سے کیا سمجھتی ہو
کہ جو بھی ہنس کے مل لے اسے اپنا سمجھتی ہو
محبت کے سفر میں ساتھ رکھو ہم سفر کوئی
وہ اک گہرا سمندر ہے جسے رستہ سمجھتی ہو
چلو ہم مان لیتے ہیں کہ ملنا شرط ہی کب تھی
مگر تم فاصلوں کو بھی کوئی رشتہ سمجھتی ہو
اداسی تم پہ آ جائے تو اس جانب نظر کرنا
جہاں پر کوئی بیٹھا ہو جسے اپنا سمجھتی ہو
تم اس کی ذات کا حصہ تم اس کی سوچ کا محور
تمہارا جسم ہے وہ تم جسے سایہ سمجھتی ہو
نہیں آنسو بہانا تم اگر وہ یاد آئے بھی
تمہارے ساتھ ہے وہ خود کو کیوں تنہا سمجھتی ہو
پلٹ کے دیکھنا تو جاگتے موسم کی ہر رُت میں
تمہیں وہ ہی ملے گا جس کو تم پیارا سمجھتی ہو
تِری تنہائیوں کو بانٹنے والا وہی اک ہے
جسے ہاشم جو کہتی ہو تو ہاشو سا سمجھتی ہو
سید ہاشم رضا
No comments:
Post a Comment