کیا خریدو گے یہ بازار بہت مہنگا ہے
پیار کی ضد نہ کرو پیار بہت مہنگا ہے
چلنے والوں کی ایک بھیڑ لگی رہتی ہے
آج کل آپ کا دیدار بہت مہنگا ہے
عشق میں وعدہ نبھانا کوئی آسان نہیں
کر کے پچھتاؤ گے اقرار بہت مہنگا ہے
آج تک تم نے کھلونے ہی خریدے ہوں گے
دل ہے یہ دل میرے سرکار بہت مہنگا ہے
ہم سکوں ڈھونڈنے آئے تھے دکانوں میں مگر
پھر کبھی دیکھیں گے اس بار بہت مہنگا ہے
راحت اندوری
No comments:
Post a Comment