Wednesday, 6 April 2016

حد شماریات سے آگے کی سوچنا

حدِ شماریات سے آگے کی سوچنا
اب قلزم و فرات سے آگے کی سوچنا
میں بھی نکل گیا ہوں عذاب و ثواب سے
تم بھی رہِ نجات سے آگے کی سوچنا 
مانا، محبتوں میں بھی لازم ہے احتیاط
لیکن اب احتیاط سے آگے کی سوچنا
سانسوں سے ماورأ بھی تو ہے ایک زندگی
اس عارضی حیات سے آگے کی سوچنا
ترتیبِ کائنات ابھی کل کی بات ہے
ترتیبِ کائنات سے آگے کی سوچنا

عبدالرحمان واصف

No comments:

Post a Comment