Tuesday, 5 April 2016

مایوس نہ ہو اداس راہی

مایوس نہ ہو اداس راہی
پھر آئے گا دورِ صبح گاہی
اے منتظرِ طلوعِ فردا
بدلے گا جہانِ مرغ و ماہی
پھر خاک نشیں اٹھائیں گے سر
مٹنے کو ہے نازِ کج کلاہی
انصاف کا دن قریب تر ہے
پھر داد طلب ہے بے گناہی
پھر اہلِ وفا کا دور ہو گا
ٹوٹے گا طلسمِ جم نگاہی
آئینِ جہاں بدل رہا ہے
بدلیں گے اوامر و نواہی

ناصر کاظمی

No comments:

Post a Comment