جس سے مل بیٹھے لگی وہ شکل پہچانی ہوئی
آج تک ہم سے یہی بس ایک نادانی ہوئی
سیکڑوں پردے اٹھا لائے تھے ہم بازار سے
گتھیاں کچھ اور الجھیں، اور حیرانی ہوئی
ہم تو سمجھے تھے کہ اس سے فاصلے مٹ جائیں گے
کیا بتائیں فکر کیا ہے اور کیا ہے جستجو
ہاں طبیعت دن بہ دن اپنی بھی سیلانی ہوئی
کیوں کھلونے ٹوٹنے پر آب دیدہ ہو گئے
اب تمہیں ہم کیا بتائیں، کیا پریشانی ہوئی
آشفتہ چنگیزی
No comments:
Post a Comment