Wednesday, 6 April 2016

جس سے مل بیٹھے لگی وہ شکل پہچانی ہوئی

جس سے مل بیٹھے لگی وہ شکل پہچانی ہوئی
آج تک ہم سے یہی بس ایک نادانی ہوئی
سیکڑوں پردے اٹھا لائے تھے ہم بازار سے
گتھیاں کچھ اور الجھیں، اور حیرانی ہوئی 
ہم تو سمجھے تھے کہ اس سے فاصلے مٹ جائیں گے
خود کو ظاہر بھی کیا،۔ لیکن پشیمانی ہوئی
کیا بتائیں فکر کیا ہے اور کیا ہے جستجو
ہاں طبیعت دن بہ دن اپنی بھی سیلانی ہوئی
کیوں کھلونے ٹوٹنے پر آب دیدہ ہو گئے
اب تمہیں ہم کیا بتائیں، کیا پریشانی ہوئی

​آشفتہ چنگیزی

No comments:

Post a Comment