Tuesday, 5 April 2016

بے وفاؤں سے ہیں وفا کرتے

بے وفاؤں سے ہیں وفا کرتے
حضرتِ دل ہیں دیکھو کیا کرتے
ہم دعا ان کے حق میں کرتے ہیں
اور ہمیں وہ ہیں بد دعا کرتے
خاکساری سے ہیں دل اپنا ہم
صورتِ آئینہ صفا کرتے
اے ستمگر مریضِ عشق تِرے
کبھی اپنی نہیں دوا کرتے
جو نہیں چاہتے کسی کا بھلا
وہ برے ہیں بہت برا کرتے
ان کو نا آشنا سمجھتے جو ہم
کبھی ہرگز نہ آشنا کرتے
میرے اور ان کے چاہ ہوتی ہے
لوگ چرچے ہیں جابجا کرتے
دل نہ دینا کہیں ظفرؔ ان کو
کہ وہ دل لے کے ہیں دغا کرتے

 بہادر شاہ ظفر

No comments:

Post a Comment