Sunday, 13 September 2020

لطف سے تیرے سوا درد مہک جاتا ہے

لطف سے تیرے سوا درد مہک جاتا ہے

یہ وہ شعلہ ہے بجھاؤ تو بھڑک جاتا ہے

اک زمانے کو رکھا تیرے تعلق سے عزیز

سلسلہ دل💞 کا بہت دور تلک جاتا ہے

تم مِرے ساتھ چلے ہو، تو مِرے ساتھ رہو

کہ مسافر سر منزل بھی بھٹک جاتا ہے

ہم تو وہ ہیں تِرے وعدہ پہ بھی جی سکتے ہیں

غنچہ پیغام صبا سے بھی چٹک جاتا ہے

مستئ شوق سنبھلنے نہیں دیتی عشقی

جام لب تک نہیں آتا کہ چھلک جاتا ہے


شاہد عشقی 

No comments:

Post a Comment