Monday, 7 September 2020

نہیں تھا کوئی بھی پھر بھی تھیں آہٹیں کیا کیا

نہیں تھا کوئی بھی پھر بھی تھیں آہٹیں کیا کیا
تمام رات ہوئیں دل پہ دستکیں کیا کیا
یہ آرزو ہے کہ ان میں ہو کوئی تجھ جیسا
نظر میں گھومتی رہتی صورتیں کیا کیا
کسی کے طرز تغافل پہ کس لیے الزام
مجھے تو خود سے رہی ہیں شکایتیں کیا کیا
نہ مٹ سکے کسی صورت بھی میرے دل کے شکوک
تِری نگاہ نے کی ہیں وضاحتیں کیا کیا

عرش صہبائی

No comments:

Post a Comment