نہیں تھا کوئی بھی پھر بھی تھیں آہٹیں کیا کیا
تمام رات ہوئیں دل پہ دستکیں کیا کیا
یہ آرزو ہے کہ ان میں ہو کوئی تجھ جیسا
نظر میں گھومتی رہتی صورتیں کیا کیا
کسی کے طرز تغافل پہ کس لیے الزام
نہ مٹ سکے کسی صورت بھی میرے دل کے شکوک
تِری نگاہ نے کی ہیں وضاحتیں کیا کیا
عرش صہبائی
No comments:
Post a Comment