دلِ بے تاب کو بہلانے چلے آئے ہیں
ہم سرِ شام ہی مے خانے چلے آئے ہیں
دل نے مشکل سے فراموش کیا تھا جن کو
لب پہ پھر آج وہ افسانے چلے آئے ہیں
بے بلاۓ تو یہاں رِند نہ آتے ساقی
راہِ میخانہ سے غفلت میں گزر ہی جاتے
دیکھ کر رقص میں پیمانے چلے آئے ہیں
آج پینے کا ارادہ تو نہیں تھا،۔ لیکن
باتوں باتوں ہی میں میخانے چلے آئے ہیں
عرش صہبائی
No comments:
Post a Comment