لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہے
کون سے شہر میں ہوتا ہے، کدھرہوتا ہے
نہیں معلوم کہ ماتم ہے فلک پر کس کا
روز کیوں چاک گریبانِ سحر ہوتا ہے
اسکے کوچے میں ہے نت صورت بیداد نئی
کر کے میں یاد دل اپنے کو بہت روتا ہوں
جب کسی شخص کا دنیا سے سفرہوتا ہے
مصحفی ہم تو تِرے ملنے کو آئے کئی بار
اے دِوانے تُو کسی وقت بھی گھر ہوتا ہے
غلام ہمدانی مصحفی
No comments:
Post a Comment