Monday, 7 September 2020

یہ آنکھیں ہیں تو سر کٹا کر رہیں گی

یہ آنکھیں ہیں تو سر کٹا کر رہیں گی
کسو سے ہمیں یاں لڑا کر رہیں گی
اگر یہ نگاہیں👁 ہیں کم بخت اپنی
تو کچھ ہم کو تہمت لگا کر رہیں گی
یہ سفاکیاں ہیں تو جوں مرغِ بسمل
ہمیں خاک و خوں میں ملا کر رہیں گی
کِیا ہم نے معلوم نظروں سے تیری
کہ نظریں تِری ہم کو کھا کر رہیں گی
یہ آئیں ہیں تو ایک دن آسماں کو
جلا کر، کھپا کر، اڑا کر رہیں گی
اگر گردشیں آسماں کی یہی ہیں
تو ہم کو بھی گردش میں لا کر رہیں گی
یہ آنکھیں ہیں تو ایک دن مصحفی کو
نگاہوں کے اندر "فنا" کر رہیں گی​

غلام ہمدانی مصحفی

No comments:

Post a Comment