آپ کی آنکھ میں کچھ رنگ سا بھرنا چاہے
دل بھی خوابوں کے جزیروں سے گزرنا چاہے
کتنا دلکش ہے شبِ غم کی خموشی کا فسوں
زندگی آپ کی آہٹ سے بھی ڈرنا چاہے
میں لہو بن کے تیرے رنگِ قبا سے الجھوں
جشنِ نو روز ہو یا شامِ غریباں کا سکوت
دل ہر اک خوف کی منزل سے گزرنا چاہے
روٹھ جانا تو نمائش ہے سراسر، ورنہ
زندگی یوں بھی تیری بات پہ مرنا چاہے
یہ الگ بات کہ آنکھوں نے اسے دیکھ لیا
ورنہ، وہ عکس میرے دل میں اترنا چاہے
میری تقدیر کی صورت میرے اشکوں کی طرح
وہ حسیں شخص بہرحال سنورنا چاہے
دن کی تقدیر کا حاصل بھی وہی ہے محسنؔ
اک ستارا جو سرِ شام ابھرنا چاہے
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment