Tuesday, 20 December 2016

بنے بنائے سے رستوں کا سلسلہ نکلا

بنے بنائے سے رستوں کا سلسلہ نکلا
نیا سفر بھی بہت ہی ”گریز پا“ نکلا
نہ جانے کس کی ہمیں عمر بھر تلاش رہی
جسے قریب سے دیکھا، وہ ”دوسرا“ نکلا
ہمیں تو راس نہ آئی کسی کی محفل بھی
کوئی خدا ، کوئی ”ہم سایۂ“ خدا نکلا
ہزار طرح کی مے پی، ہزار طرح کے زہر
نہ پیاس ہی بجھی اپنی، نہ حوصلہ نکلا
ہمارے پاس سے گزری تھی ایک پرچھائیں
پکارا ہم نے، تو صدیوں کا ”فاصلہ“ نِکلا
اب اپنے آپ کو ڈھونڈیں، کہاں کہاں جا کر
عدم سے تا بہ عدم اپنا ”نقشِ پا“ نکلا

خلیل الرحمان اعظمی

No comments:

Post a Comment