بنے بنائے سے رستوں کا سلسلہ نکلا
نیا سفر بھی بہت ہی ”گریز پا“ نکلا
نہ جانے کس کی ہمیں عمر بھر تلاش رہی
جسے قریب سے دیکھا، وہ ”دوسرا“ نکلا
ہمیں تو راس نہ آئی کسی کی محفل بھی
ہزار طرح کی مے پی، ہزار طرح کے زہر
نہ پیاس ہی بجھی اپنی، نہ حوصلہ نکلا
ہمارے پاس سے گزری تھی ایک پرچھائیں
پکارا ہم نے، تو صدیوں کا ”فاصلہ“ نِکلا
اب اپنے آپ کو ڈھونڈیں، کہاں کہاں جا کر
عدم سے تا بہ عدم اپنا ”نقشِ پا“ نکلا
خلیل الرحمان اعظمی
No comments:
Post a Comment