نہ جانے کون سی خواہش عذاب ہے یارو
نفس نفس میں عجب اضطراب ہے یارو
بکھرتا رہتا ہے اوراقِ منتشر کی طرح
خیال ہے،۔ کہ پرانی کتاب ہے یارو
عجیب موڑ پہ آ کر ٹھہر گئی ہے حیات
کھڑے ہیں کتنے خیالوں کے راہ میں اشجار
بس اک سکوت ہی سب کا جواب ہے یارو
جہاں پہ آ کے ملی گردشِ فلک سے اماں
یہی وہ اک دلِ خانہ خراب ہے یارو
شاہد ماہلی
No comments:
Post a Comment