Monday, 19 December 2016

سمجھ سکے نہ جسے کوئی بھی سوال ایسا

سمجھ سکے نہ جسے کوئی بھی سوال ایسا
بُنا ہے سانس کے دھاگوں نے ایک جال ایسا
کبھی دماغ تھا مجھ کو بھی خود پرستی کا
پلٹ کے ذہن میں آیا نہ پھر خیال ایسا
میں آسماں تو نہ تھا جس میں چاند چھپ جاتے
ہُوا نہ ہو گا کسی کا کبھی زوال ایسا
تمام عمر نئے لفظ کی تلاش رہی
کتابِ درد کا مضموں تھا پائمال ایسا
کنار اب نہ پہنچے گی جان کی کشتی
بہت دنوں سے ہے پانی میں اشتعال ایسا

شمیم حنفی

No comments:

Post a Comment