Monday, 7 September 2020

اب مری چاہت بھی چائے کی پیالی ہو گئی

اب مِری چاہت بھی چائے کی پیالی ہو گئی
جو تمہارے ہاتھ میں تھی، اور خالی ہو گئی
کون کھڑکی کھول کر دیکھے گا اب اسکی طرف
چاندنی جاڑے کی پچھلی رات والی ہو گئی
دور تک میری رفاقت میں رہا کوئی خیال
پھر مِرے ہمراہ میری بے خیالی ہو گئی
اس زمیں پر اس قدر بارود برسایا گیا
آسماں سے گرنے والی برف کالی ہو گئی
میرے لفظوں کو کیا ممتاز میرے عشق نے
میری ہر تحریر🖅 دنیا میں مثالی ہو گئی
دھوپ میں خلقِ خُدا پر چھاؤں کرنے کیلئے
پیڑ کی اپنی جسامت ڈالی ڈالی ہو گئی🌳
رُخ بدلتی ہے بدلتے موسموں کے ساتھ ساتھ
کونج کا کیا ہے، جنوبی یا شمالی ہو گئی🦆
وقت نے طبعِ رواں میں ریت بھر دی ہے نسیم
رفتہ رفتہ آبجُو 🌊پانی سے خالی ہو گئی

نسیم عباسی

No comments:

Post a Comment