Monday, 7 September 2020

شدید دھوپ میں سارے درخت سوکھ گئے

شدید دھوپ میں سارے درخت سوکھ گئے
کسی کے بعد ہمارے درخت سوکھ گئے
ہرے رہے وہ جو دریا سے دور تھے کوسوں
کھڑے تھے جو بھی کنارے درخت سوکھ گئے
لِپٹ گئی تھیں جو بیلیں، نبھا چکیں رشتہ
اِنہیں کوئی تو اتارے، درخت سوکھ گئے
تجھے ہے غم کہ تِرے پھل گرے درختوں سے
اِدھر کے دیکھ خسارے، درخت سوکھ گئے
دعا یوں مانگی کہ میرا گَلا بھی سوکھ گیا
فقط، سنا تھا تمہارے درخت سوکھ گئے
تمہارے بعد مِرے گاؤں کو ہُوا کیا ہے؟
بجھے بجھے ہیں ستارے درخت سوکھ گئے
عجیب بات ہے، موسم بہار آتے ہی
تمام درد کے مارے درخت سوکھ گئے

ندیم راجہ

No comments:

Post a Comment