شدید دھوپ میں سارے درخت سوکھ گئے
کسی کے بعد ہمارے درخت سوکھ گئے
ہرے رہے وہ جو دریا سے دور تھے کوسوں
کھڑے تھے جو بھی کنارے درخت سوکھ گئے
لِپٹ گئی تھیں جو بیلیں، نبھا چکیں رشتہ
تجھے ہے غم کہ تِرے پھل گرے درختوں سے
اِدھر کے دیکھ خسارے، درخت سوکھ گئے
دعا یوں مانگی کہ میرا گَلا بھی سوکھ گیا
فقط، سنا تھا تمہارے درخت سوکھ گئے
تمہارے بعد مِرے گاؤں کو ہُوا کیا ہے؟
بجھے بجھے ہیں ستارے درخت سوکھ گئے
عجیب بات ہے، موسم بہار آتے ہی
تمام درد کے مارے درخت سوکھ گئے
ندیم راجہ
No comments:
Post a Comment