قہر ٹوٹا ہے جو اس پر کیا لکھوں
میں زباں رکھتی ہوں کیسے چپ رہوں
کیوں نہ میں بھی اس کی موجوں میں بہوں
کس قدر ہیں دل شکن منظر یہاں
ہر کوئی درد کا پیکر یہاں
ہر قدم پر اک نہ اک ٹھوکر یہاں
پاﺅں میں آلام کی زنجیر ہے
روح فرسا کس قدر تصویر ہے
کیا یہی وادئ کشمیر ہے؟
روبینہ میر
No comments:
Post a Comment