Wednesday, 6 January 2021

کیا یہی وادی کشمیر ہے

 قہر ٹوٹا ہے جو اس پر کیا لکھوں

میں زباں رکھتی ہوں کیسے چپ رہوں

کیوں نہ میں بھی اس کی موجوں میں بہوں

کس قدر ہیں دل شکن منظر یہاں

ہر کوئی درد کا پیکر یہاں

ہر قدم پر اک نہ اک ٹھوکر یہاں

پاﺅں میں آلام کی زنجیر ہے

روح فرسا کس قدر تصویر ہے

کیا یہی وادئ کشمیر ہے؟


روبینہ میر

No comments:

Post a Comment