Sunday, 2 January 2022

نہ سوئیں ہم نہ جاگیں ہم یہ دن کیسے گزرتے ہیں

 نہ سوئیں ہم نہ جاگیں ہم یہ دن کیسے گزرتے ہیں

یہ اشک آباد آنکھیں بھی جھپکتے ہیں تو ڈرتے ہیں

تمہارے بعد اس دل کو نہ بھائے پھر کوئی شاید

چلے جانا، ٹھہر جاؤ، ہم آنکھیں بند کرتے ہیں

نہ سُنتا ہے ہمارا غم،۔ نہ اپنا غم سُناتا ہے

نہ رونے دے نہ ہنسنے دے بھلا یوں زخم بھرتے ہیں

تم اپنے پاس ہی رکھو لرزتی عدل کی میزاں

نہ تم انصاف دیتے ہو، نہ ہم فریاد کرتے ہیں

وہی صبحیں، وہی شامیں، بدلتا کچھ نہیں منظر

جھڑے پتے خزاں کی رُت، نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں


صدیق منظر

No comments:

Post a Comment