Thursday, 7 April 2022

کبھی زمین کبھی آسمان لگتا ہے

 کبھی زمین کبھی آسمان لگتا ہے

مجھے وہ روز نیا امتحان لگتا ہے

ضرور ہے کوئی پوشیدہ مصلحت اس میں

جو آج کل وہ بہت مہربان لگتا ہے

وہ جس کے بخت کا سورج نہ ڈوبتا تھا کبھی

وہ ایک بھولی ہوئی داستان لگتا ہے

وہی ہے ناز و ادا اور وہی حسیں چہرہ

وہ عہدِ پیری میں کچھ کچھ جوان لگتا ہے

وہ شخص مجھ پہ بھروسہ کرے تو کیسے کرے

جو اپنی ذات سے بھی بد گمان لگتا ہے


رجب چوہدری

No comments:

Post a Comment