کبھی زمین کبھی آسمان لگتا ہے
مجھے وہ روز نیا امتحان لگتا ہے
ضرور ہے کوئی پوشیدہ مصلحت اس میں
جو آج کل وہ بہت مہربان لگتا ہے
وہ جس کے بخت کا سورج نہ ڈوبتا تھا کبھی
وہ ایک بھولی ہوئی داستان لگتا ہے
وہی ہے ناز و ادا اور وہی حسیں چہرہ
وہ عہدِ پیری میں کچھ کچھ جوان لگتا ہے
وہ شخص مجھ پہ بھروسہ کرے تو کیسے کرے
جو اپنی ذات سے بھی بد گمان لگتا ہے
رجب چوہدری
No comments:
Post a Comment