Thursday, 7 April 2022

دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے

 دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے

چاروں طرف بس ایک سمندر دکھائی دے

گھر پر نظر کروں تو بیابان سا لگے

اور دشت بے کنار مجھے گھر دکھائی دے

خوابوں کے درمیان ہے مدت سے ایک جنگ

میدانِ کارزار نہ لشکر دکھائی دے

یہ کیا کہ پھر بھی جسم ہے اپنا لہو لہان

آتا ہوا کہیں سے نہ پتھر دکھائی دے

ہر شام زندگی کا نیا خواب لے کے آئے

ہر صبح اپنی موت کا منظر دکھائی دے

اس طرح پڑھ رہے ہیں وہ تحریر ہاتھ کی

ہاتھوں میں جیسے میرا مقدر دکھائی دے

تیر و کمان آپ بھی محسن! سنبھالیے

جب دوستی کی آڑ میں خنجر دکھائی دے


محسن زیدی

No comments:

Post a Comment