Tuesday, 6 June 2023

نہ جانے کب بسر ہوئے نہ جانے کب گزر گئے

 نہ جانے کب بسر ہوئے نہ جانے کب گزر گئے

خوشی کے انتظار میں جو روز و شب گزر گئے

ہر آنے والے شخص کا دباؤ میری سمت تھا

میں راستے سے ہٹ گیا تو سب کے سب گزر گئے

مِرے لیے جو وقت کا شعور لے کے آئے تھے

مجھے خبر ہی تب ہوئی وہ لمحے جب گزر گئے

سمندروں کے ساحلوں پہ خاک اڑ رہی ہے اب

جو تشنگی کی آب تھے، وہ تشنہ لب گزر گئے

مگر وہ تیرے بام و در کی عظمتوں کا پاس تھا

تِری گلی سے بے ادب بھی با ادب گزر گئے

وفورِ انبساط میں کسے رہیں گے یاد ہم؟

اگر جہان رنگ و بُو سے بے سبب گزر گئے

بجا ہے تیرا یہ گِلہ کہ؛ میں بہت بدل گیا

دراصل مجھ پہ حادثے ہی کچھ عجب گزر گئے

کہیں کہیں تو راہ بھی خود ایک سدِ راہ تھی

مگر ہم ایسے سخت جاں بہ نام رب گزر گئے

ہوئی نہ قدر مہر کی، خلوص رائیگاں گیا

رہِ وفا سے رشک! ہم وفا طلب گزر گئے


رشک خلیلی

No comments:

Post a Comment