عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اڑائی خاک ماتم کی مدینے سے صبا آئی
کہ جیسے فاطہ صغریٰؑ کے رونے کی صدا آئی
کرو اے کلمہ گویانِ محمدﷺ بند آنکھوں کو
بھرے دربار میں زہراؑ کی بیٹی بے ردا آئی
اجل کو لاشِ ہم شکلِ پیمبرؑ سے حجاب آیا
حبیب ابن مظاہر کی ضعیفی سے حیا آئی
ستم کرتی رہی اُمت، مگر بیمار عابدؑ کے
کبھی دل پر ملال آیا، نہ لب پر بد دعا آئی
اٹھا کر لاشِ اکبرؑ جب چلے شبیرؑ خیموں کو
خلیل اللہؑ کی پیہم صدائے "مرحبا" آئی
غمِ دنیا سے اے اختر ہُوا دل بے نیاز اس کا
مصیبت میں جسے یادِ شہیدِ کربلا آئی
اختر چنیوٹی
اختیار حسین
No comments:
Post a Comment