Friday, 22 October 2021

تیز ہے میرا قلم تلوار سے

 تیز ہے میرا قلم تلوار سے

دوست خائف ہیں مِری رفتار سے

جیب میں کچھ بھی نہیں تھا اس لیے

لوٹ کر میں آ گیا بازار سے

جھولیاں بھر بھر کے جاتے ہیں سبھی

نوشۂ لجپال کے دربار سے

قاتل ہے جو میرا وہی اپنا سا لگے ہے

 قاتل ہے جو میرا، وہی اپنا سا لگے ہے

دنیا سے جدا ہو کے وہ دنیا سا لگے ہے

ہر شام مِرے دل میں ہے یادوں سے چراغاں

ہر شام مِری پلکوں پہ میلا سا لگے ہے

کس حال پہ چھوڑے ہے مجھے گردشِ ایام

سبزہ بھی جہاں دیکھے ہوں صحرا سا لگے ہے

منا لو جشن کہ یہ جنگ جیت لی تم نے

 منا لو جشن کہ یہ جنگ جیت لی تم نے

وہ حرفِ لوحِ جہاں سے مٹا دیا آخر

جسے تمہاری نگاہیں غلط سمجھتی تھیں

مسل کے پھول سمجھتے ہو، مر گئی خوشبو

مٹا کے حرف سمجھتے ہو داستان نہ رہی

بدن کو مار کے خوش ہو کہ کھیل ختم ہوا

دامن چاک لئے بیٹھا ہوں

 دامن چاک لیے بیٹھا ہوں

آنکھ نمناک لیے بیٹھا ہوں

جتنی کل مجھ کو ضرورت ہو گی

اتنی ہی خاک لیے بیٹھا ہوں

مختلف ٹاٹ کے پیوند لگی

ایک پوشاک لیے بیٹھا ہوں

زیست کی تاریک راہوں میں دیا کوئی نہیں

زیست کی تاریک راہوں میں دِیا کوئی نہیں

اس سفر میں جز غم دل رہنما کوئی نہیں

ہم کسی اسکندر و دارا کا کھائیں کیوں فریب

ہم قلندر ہیں ہمارا مدعا کوئی نہیں

ایک تم ساری خدائی جس کی ہے حلقہ بگوش

اور میرے ظلمت کدہ میں دوسرا کوئی نہیں

شب ڈھل گئی پہ وقت سحر آ نہیں رہا

 شب ڈھل گئی پہ وقت سحر آ نہیں رہا

سورج بھی تیرگی سے نکل پا نہیں رہا

اس کیفیت کی کوئی وضاحت کرے مجھے

نیند آ رہی ہے، خواب مگر آ نہیں رہا

کہتا ہے چھوڑ کر تجھے کچھ دن کے واسطے

کچھ دور جا رہا ہوں، کہیں جا نہیں رہا

چھوٹا سا ایک ہاتھ ہے پھیلا

ایک ہاتھ کی کہانی


چھوٹا سا ایک ہاتھ ہے پھیلا

نیلی، سبزی مائل آنکھیں

پوچھ رہی ہیں

پیسہ دو گے؟

وقت ایسا ہے کہ بینائی سے خوف آتا ہے

پاس آتی ہوئی اک کھائی سے خوف آتا ہے