پانی سے کب پیاس بُجھائی جا سکتی ہے
دریا کو یہ بات بتائی جا سکتی ہے
اُس کو لایا جا سکتا ہے جنگل میں
پیڑوں کی توقیر بڑھائی جا سکتی ہے
پھولوں سے ہی دل کی باتیں کیا کرنا
خُوشبُو بھی ہمراز بنائی جا سکتی ہے
پانی سے کب پیاس بُجھائی جا سکتی ہے
دریا کو یہ بات بتائی جا سکتی ہے
اُس کو لایا جا سکتا ہے جنگل میں
پیڑوں کی توقیر بڑھائی جا سکتی ہے
پھولوں سے ہی دل کی باتیں کیا کرنا
خُوشبُو بھی ہمراز بنائی جا سکتی ہے
کبھی صرصر ہے کبھی بادِ صبا ہے ساقی
زندگی سلسلۂ بِیم و رجا ہے ساقی
نہ کدورت ہے کسی سے نہ گِلہ ہے ساقی
میں نے خود اپنے مقدر کو لِکھا ہے ساقی
اپنے ماحول میں شامل ہوں میں اوروں کی طرح
میرے جینے کا مگر طور جُدا ہے ساقی
ناصح کو بُڑھاپے میں ہے ارمان ابھی تک
کہتے ہیں وہ بیوی کو مِری جان! ابھی تک
کھولے ہوئے بیٹھے ہیں وہ دوکان ابھی تک
پھیکا ہے مگر شیخ کا پکوان ابھی تک
سر ہلتا ہے تھوتن میں کوئی دانت نہیں ہیں
بن پایا نہ ٹُوٹا ہوا دالان ابھی تک
اُکتا کے کُوئے یار سے عشاق چل پڑے
کارِ وفا کے دیکھیے مُشتاق چل پڑے
میں اُٹھ گیا تو درد کی محفل اُجڑ گئی
میرے ہی ساتھ عشق کے مشّاق چل پڑے
نقشِ قدم پڑے ہیں یہ قُدرت کے جا بجا
دُنیائے دل سے اُٹھ کے بد اخلاق چل پڑے
دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا
اک شکستہ ناؤ سا میں تیز رو پانی میں تھا
مجھ سے ملنے کوئی آتا بھی تو ملتا کس طرح
میں تو گھر میں بند خود اپنی نگہبانی میں تھا
آدمیت کے عوض اس نے خریدا ہے لباس
آدمی تھا آدمی جب عہد عریانی میں تھا
خوابِ شیریں ہی کُل اثاثہ ہے
اور حقیقت فقط تماشہ ہے
کل تلک یہ بھی ٹوٹ جائے گا
اک بھرم جو نیا تراشہ ہے
ہر گھڑے میں بھرے ہیں کچھ کنکر
اور ہر اک پرندہ پیاسا ہے
نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا
بنا کے راہگزر بھیڑ سے گزر جانا
مجھے ڈبو نہ سکیں گی یہ تند خُو موجیں
مِری سرشت میں ہے ڈُوب کر اُبھر جانا
بِچھا نہ راہ میں اپنی انا کی چنگاری
مجھے تو آتا ہے شعلوں سے بھی گزر جانا