Sunday, 30 August 2026

پانی سے کب پیاس بجھائی جا سکتی ہے

 پانی سے کب پیاس بُجھائی جا سکتی ہے

دریا کو یہ بات بتائی جا سکتی ہے

اُس کو لایا جا سکتا ہے جنگل میں

پیڑوں کی توقیر بڑھائی جا سکتی ہے

پھولوں سے ہی دل کی باتیں کیا کرنا

خُوشبُو بھی ہمراز بنائی جا سکتی ہے

Saturday, 29 August 2026

کبھی صرصر ہے کبھی باد صبا ہے ساقی

 کبھی صرصر ہے کبھی بادِ صبا ہے ساقی

زندگی سلسلۂ بِیم و رجا ہے ساقی

نہ کدورت ہے کسی سے نہ گِلہ ہے ساقی

میں نے خود اپنے مقدر کو لِکھا ہے ساقی

اپنے ماحول میں شامل ہوں میں اوروں کی طرح

میرے جینے کا مگر طور جُدا ہے ساقی

ناصح کو بڑھاپے میں ہے ارمان ابھی تک

 ناصح کو بُڑھاپے میں ہے ارمان ابھی تک

کہتے ہیں وہ بیوی کو مِری جان! ابھی تک

کھولے ہوئے بیٹھے ہیں وہ دوکان ابھی تک

پھیکا ہے مگر شیخ کا پکوان ابھی تک

سر ہلتا ہے تھوتن میں کوئی دانت نہیں ہیں

بن پایا نہ ٹُوٹا ہوا دالان ابھی تک

اکتا کے کوئے یار سے عشاق چل پڑے

 اُکتا کے کُوئے یار سے عشاق چل پڑے

کارِ وفا کے دیکھیے مُشتاق چل پڑے

میں اُٹھ گیا تو درد کی محفل اُجڑ گئی

میرے ہی ساتھ عشق کے مشّاق چل پڑے

نقشِ قدم پڑے ہیں یہ قُدرت کے جا بجا

دُنیائے دل سے اُٹھ کے بد اخلاق چل پڑے

Friday, 28 August 2026

دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا

 دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا

اک شکستہ ناؤ سا میں تیز رو پانی میں تھا

مجھ سے ملنے کوئی آتا بھی تو ملتا کس طرح

میں تو گھر میں بند خود اپنی نگہبانی میں تھا

آدمیت کے عوض اس نے خریدا ہے لباس

آدمی تھا آدمی جب عہد عریانی میں تھا

خواب شیریں ہی کل اثاثہ ہے

 خوابِ شیریں ہی کُل اثاثہ ہے

اور حقیقت فقط تماشہ ہے

کل تلک یہ بھی ٹوٹ جائے گا

اک بھرم جو نیا تراشہ ہے

ہر گھڑے میں بھرے ہیں کچھ کنکر

اور ہر اک پرندہ پیاسا ہے

Thursday, 27 August 2026

نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا

 نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا

بنا کے راہگزر بھیڑ سے گزر جانا

مجھے ڈبو نہ سکیں گی یہ تند خُو موجیں

مِری سرشت میں ہے ڈُوب کر اُبھر جانا

بِچھا نہ راہ میں اپنی انا کی چنگاری

مجھے تو آتا ہے شعلوں سے بھی گزر جانا