شرکت دیرینہ جب کوئی ہیں اے اجنبی
کس قدر مہمل ہیں پھر یہ آن و ایں اے اجنبی
کیسے سمجھاؤں تجھے کس واسطے میں اپنے ساتھ
لے کے آیا ہوں غزل کی اک زمیں اے اجنبی
ایک یارِ ہمزباں سے عہدِ طفلی میں مِری
کیا بتاؤں کس طرح باتیں ہوئیں اے اجنبی
شرکت دیرینہ جب کوئی ہیں اے اجنبی
کس قدر مہمل ہیں پھر یہ آن و ایں اے اجنبی
کیسے سمجھاؤں تجھے کس واسطے میں اپنے ساتھ
لے کے آیا ہوں غزل کی اک زمیں اے اجنبی
ایک یارِ ہمزباں سے عہدِ طفلی میں مِری
کیا بتاؤں کس طرح باتیں ہوئیں اے اجنبی
ستم تو دیکھیے کرتے ہیں اپنی شان کا سودا
جو یہ کہتے ہیں کہ ہم کرتے نہیں نقصان کا سودا
حفاظت ہم کریں گے بیٹیوں کی جن کا نعرہ تھا
وہی اب کر رہے ہیں بیٹیوں کی جان کا سودا
جو تھے بلقیس کی عزت پہ ڈاکہ ڈالنے والے
حکومت ان سے کر بیٹھی ہے اب ایمان کا سودا
رات گئے یونہی
میں اپنی یادوں کی
بے جان خاک زدہ
تصویریں دیکھتا ہوں
اور یہ بھی دیکھتا ہوں کہ
اب ان سوچ کے پتلوں میں
کوئی آس نہیں
اُف رے تیرا سِنگار کیا کہنا
مردوا ہے نثار کیا کہنا
ایسی عیاشی کم سُنی ہو گی
بِک گیا گھر دوار کیا کہنا
جس تمنّا کو وہ نہیں سُنتے
اس کا پھر بار بار کیا کہنا
دل آرزوئے زر لیے ہرگز جِیا نہیں
صد شکر یہ مِزاج ہی ہم کو مِلا نہیں
اوروں کے معبدوں کو جو ڈھا کر کرے ہو ناز
وہ بندۂ خُدا ہی سہی با خُدا نہیں
مایوسیوں کی گرچہ رہا یہ لپیٹ میں
اُمید کا دِیا مگر اپنا بجھا نہیں
نہیں ہے تیرے تغافل پہ اعتراض مجھے
کہ اس میں بھی نظر آتا ہے کوئی راز مجھے
وہ کون تھا جو خدا کے قریب کرتا رہا
وہ کون تھا جو پڑھاتا رہا نماز مجھے
میں دشت دشت بھٹکتا ہوا نظر آتا
تُو کارِ عشق سے رکھتا اگر نہ باز مجھے
ہوائے حِرص و ہوس میں جکڑ گیا وہ بھی
تمہارے شہر میں ہم سے بِچھڑ گیا وہ بھی
محبتوں کا گھنا پیڑ جو مکان میں تھا
عداوتوں کی ہوا سے اُکھڑ گیا وہ بھی
تمام عمر کا سرمایہ اک نشیمن تھا
چلی ہوائے سِتم تو اُجڑ گیا وہ بھی