نپے قدموں سے چلتے چلتے واہگہ پر
نپے قدموں سے چلتے چلتے واہگہ پر
میں زِیرو لائن پر آ کر کھڑا تھا جب
مِری پرچھائیں پاکستان میں تھی
مِرے پیچھے تھا سورج
مجھے دیکھا
چھڑی ٹیکی زمیں پر
مسکرائے اور بولے
وہاں جب مٹی چھوڑی تھی’’
‘‘میں اپنے گھر چلا آیا تھا، پُنّی
مِرے ابو مجھے ’’پُنّی‘‘ بلاتے تھے
مجھے امید تھی تم آؤ گے پُنّی’’
کہ میرے انت کی تم کو خبر پہنچی نہیں تھی
‘‘یقیں تھا آؤ گے مجھ کو وِداع کرنے
٭
بس اک وقفہ ٹھٹھر کے رہ گیا تھا
چھڑی کو کھٹکھٹایا پھر زمیں پر
بڑھا کر ہاتھ بولے
’’چلو دینہ چلیں گے‘‘
٭
مرے احباب جو واہگہ پہ لینے آئے تھے مجھ کو
پکڑ کے ہاتھ میرا، لے گئے لاہور مجھ کو
وہاں کے شور و غُل میں پھر کوئی آواز کانوں میں نہیں آئی
مگر سناٹے کا اک راستہ تھا جو دکھائی دے رہا تھا
وہ رستہ’’دینہ‘‘ جاتا تھا
٭
بہت چھوٹا سا قصبہ تھا، کبھی وہ
بہت چھوٹا سا گتوں کا بنایا ایک سٹیشن تھا
وہاں سب گاڑیاں رکتی نہیں تھیں
مگر وہ ’’لام‘‘ کے دن تھے
وہی رکتی تھیں جن میں فوجیوں کے ڈبے ہوتے تھے
دھواں دِکھتا تھا گاڑی کا تو دوڑ آتا تھا سٹیشن پر
اس میں ابو ہٹّی کے لیے سامان لے کر لوٹا کرتے تھے
٭
بس اک بازار تھا
اک ’’ٹالھیوں‘‘ والی سڑک بھی تھی
وہ اب بھی ہے
مدرسہ تھا جہاں میں ٹاٹ کی پٹی بچھا کر تختی لکھتا تھا
گلی بھی ہے
وہ جس کا اک سِرا کھیتوں میں کھلتا تھا
وہ دیواریں ٹٹولیں، کوئلے سے جن پہ اُردو لکھا کرتا تھا
٭
مجھے امید تھی کوئی مری انگلی پکڑ لے گا
مجھے ہجے سکھائے گا
مگر کوئی نہیں آیا
میں شاید چھوڑ آیا تھا، وہیں واہگہ پہ ان کو
میں لوٹ آیا
٭
میں زیرو لائن پر آ کر کھڑا ہوں
مرے پیچھے مری پرچھائیں ہے، آواز دیتی ہے
وہاں جب مٹی چھوڑو گے‘‘
چلے آنا تمہارا گھر یہیں پر ہے
‘‘تمہاری جنم بُھومی ہے، وطن ہے
گلزار
No comments:
Post a Comment