بستہ پھینک کے لوچی بھاگا
بستہ پھینک کے لوچی بھاگا روشن آرا باغ کی جانب
چِلّاتا ’’چل گُڈّی چل
‘‘آج بہت سے پکّے جامن ٹپکیں گے‘‘
٭
آنگن کی رسی سے ماں نے کپڑے کھولے
اور تنور پہ لا کے ٹین کی چادر ڈالی
لچّھی نے چادر میں لپیٹے
’’بچ گئی ربّا، کِیا کرایا دُھل جانا تھا‘‘
٭
خیرُو نے اپنے کھیتوں کی سُوکھی مٹی
جھرّیوں والے ہاتھ میں لے کر
بھیگی بھیگی آنکھوں سے پھر اوپر دیکھا
٭
جھوم کے پھر اٹھے ہیں بادل
ٹوٹ کے پھر بارش برسے گی
گلزار
No comments:
Post a Comment