Monday, 4 January 2016

یہ پھول یہ سبزہ یہ گھٹا میرے لیے ہے

یہ پھول یہ سبزہ یہ گھٹا میرے لیے ہے
ساون میں پپیہے کی صدا میرے لیے ہے
رنگوں کا یہ سیلاب یہ خوشبوؤں کا طوفان
مہکی سی دھنک رنگ فضا میرے لیے ہے
وہ آنکھ کہ خوابوں کا ہے شاداب جزیرہ
اس آنکھ میں اک خواب نیا میرے لیے ہے
مہتاب کی کرنوں سے برستی ہوئی چاندی
یہ منظرِ سیمیں بھی ڈھلا میرے لیے ہے
ہر عہد میں اس کے لیے سرچشمۂ حیواں
ہر دور میں مرنے کی سزا میرے لیے ہے
شورش سے ہو لبریز کہ بے آہ فغاں ہو
فریاد کی ہر طرزِ ادا میرے لیے ہے
گو زہر پیالہ ستی میرا نے پیا تھا
تلخی کا مگر اس کی مزا میرے لیے ہے

شبنم شکیل

No comments:

Post a Comment