Sunday, 3 January 2016

ہوا میں اڑتے ہوئے بادباں نہیں گزرے

ہوا میں اڑتے ہوئے بادباں نہیں گزرے
برستے بادلوں کے کارواں نہیں گزرے
وہ بدگمانی کی پرچھائیوں میں رہتا ہے
ادھر یقیں کے کبھی سائباں نہیں گزرے
میں جنکی آنکھوں میں سب اپنے خواب رکھ دیتی
مِری نگاہ سے وہ مہرباں نہیں گزرے
محبتوں کے سفر میں یہ کون کہتا ہے
کہ دشتِ چشم سے آبِ رواں نہیں گزرے
جہاں بھی چاہے اڑا کر مجھے وہ لے جائے
صدا کی لہر سے ایسے گماں نہیں گزرے
مئے حیات کی تلخی سبھی کا حصہ تھی
جو میرے جیسے تھے تشنہ لباں، نہیں گزرے
تِری صدائے مسلسل کی گونج تھی، پھر بھی
تِرے خیال پہ کیا کیا گماں نہیں گزرے

ناہید ورک

No comments:

Post a Comment