Monday, 4 January 2016

ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں

ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں
میں منتظر ہوں مگر تیرا انتظار نہیں
ہمِیں سے رنگِ گلستاں ہمِیں سے رنگِ بہار
ہمِیں کو نظمِ گلستاں پہ اختیار نہیں
ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب 
ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں
تمہارے عہدِ وفا کو میں عہد کیا سمجھوں
مجھے خود اپنی محبت پہ اعتبار نہیں
نہ جانے کتنے گِلے اس میں مضطرب ہیں ندیم
وہ ایک دل جو کسی کا گِلہ گداز نہیں
گریز کا نہیں قائل حیات سے لیکن
جو سچ کہوں کہ موت ناگوار نہیں
یہ کس مقام پہ پہنچا دیا زمانے نے
کہ اب حیات پہ تیرا بھی اختیار نہیں

ساحر لدھیانوی

No comments:

Post a Comment