Monday, 19 December 2016

یہ اسی کی نشانی ہے جو دشمن جانی ہے

یہ اسی کی نشانی ہے، جو دشمن جانی ہے
سوکھی ہوئی آنکھوں میں دریا سی روانی ہے
دیکھو ذرا اب اس کا کیا حشر بھلا ہو گا
سورج کی تمازت میں پھولوں کی جوانی ہے
صحرا ہے وہ صحرا ہے، دھوکا نہ اٹھا لینا
جب دور سے دیکھو تو، لگتا ہے کہ پانی ہے
وہ شام ڈھلے اپنی شاخوں پہ اترتے ہیں
اڑتے ہوئے جوڑے کی ہر شام سہانی ہے
ٹوٹے ہوئے رشتوں کو اب آؤ ضیاؔ جوڑیں
یہ رسم ہے دنیا کی ہم کو بھی نبھانی ہے

ضیا علوی

No comments:

Post a Comment